پاکستان مین کسی تبدلی۔ جو انڈین میڈیا چہاتا ہے یا دھر نا کلچر؟


پاکستان اور پا کستان کے سیاست دانون اور نادان فوم سے التجا ہے۔کہ خوف +خدا دلو ن مین پیدا کرو۔ اور اس میذا سے گزارش ہے۔ پاکستان کو سلامت رکھو۔ جس کو بھی عوام کا فلاحی کام کرنا ہے ۔وہ اپنی طاقت اور ذرایعہ کو کام لاے۔ قا نونکی پاس داری کریں۔ ورنہ باقی ماندہ پاکستان اور قوم کو بناے ۔اپنی اور انے والے نسل کو آچہی زندگی فرہم کرے۔ جمہرری طریقہ استمال کرو۔ غیر جمھوری طریقہ سے کچھ نہ حاسل ہو گا۔ فتل و غارت گری۔ کہ سوا۔ اپ ابنی ہی تاریخ گردانی کرے۔ شیخ مجیب کیا حال ہوا،سقوطہ ڈھاکہ کے بعد جنرل نیازی کو کس نے یاد رکھا۔اس مین کوی شک نہیں ذولفقار علی بٹھو جیسے عوامی لیڈر کو پاکستانی بیوروکیٹ،اور امریک نواز عوام نے اس لیذر کو سولی پر جٹرھادیا۔ اسکے بیوئ بجے در بدر ہو گۓ۔ قو می اتحاد کا کیا ہوا۔ انکا نعرہ تھا ۔اسلامی نظام۔ بعد ازان جنرل ضیاء الحق نے ایسا اسلامی نظام دیا کہ سب جانتے ہین۔ افغان مہاجر کے روپ مین۔ ڈرگ مافیاء اور یتیم خانہ کے سہارے لے کراسلامی نظام کی دجہیاں اڑادی۔ بعدمین ضیاء الحق کو راکٹ مارکر اسکی لاش کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مایا ناز جرنلوں کا قیمہہ بنادیا گیا۔ اج تک کسی نےآواز اٹہائ؟۔ بے نظیر کو مروادیاگیا۔ کہان گی انوسٹیگیشن رپوٹ۔ کہاں گی عدالت عظمی کی ججمینٹ۔ اب سونچنے اور سمجنھے کی بات یہ ہے۔ دھرناکلچر کا انجام کیا ہوگا۔ تبدیلی ںظام کا اتنا چرجا اور پیسہ خرچ ہو رھا ہے۔ وہ کہان سے کس طرح آرہا ہے۔ ؟۔ انڈین میڈیا پاکستان مین جو تبدلی لا رہا ہے۔ اس کے بعد کوئ پاکستانی کوشیش کررہا رہے تو اس بڑا بے وقوف کوئ نہین ھوگا۔ انڈین میڈیا جو باکستان مین تبدیلی لا رہا ہے۔ شوہر بیوی کو پتنی ارو بیوی پتی کہتی ہے۔ بیٹا باپ سے پوچھتا ہے کہ کونسی فلم لے کرآوں پیتاجی۔ بولتے ہین مین تیری ماتہ کے ساتھ مین دیکھ لو گا۔ تجھ کو جو دیکنھا ہے لس آ۔ باکستان مین پہلے رشتے ہوتے تھےخاندان ہی مین یا گھر کے بزرگ طے کرتے تھے۔۔ اب تو ڈیٹینگ بہ جاتی ہین۔ وہ بھی فایو اسٹار ھوٹل سے کم نہین۔ اس کا ایک پاکستانی مسلم ام کو ضرور ھوا،والدین اپنہے بیٹے کے لیے چاند سے بھو کی تلاش مین چبلے گس جاتی تھی۔ سالون کی کوشیش کے بعد کوئ نکچڑی، نہ گھر داری معلوم نہ چار دیواری کا۔ ہر پاکستانی لڑکی کا نام ایکٹیرس کے نام پر۔ شادی ان لاین پر بچہ بہی متوقع ہے چند سالو ن بعد ان لاین پر۔ موضعبڑا گمبھیر ھوتا جا رہا ہے۔مختصر یہ کہ کونسی تبدیلی اور کیسی تبدیلی۔ صرف اور صریف قانون کا نفاظ اور اس پر عمل کی ضرورت ہے بلا تفریق۔ جیے پاکستان۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s